11

ڈڈیال سے ماں جی کی فریاد “مہاڑا کہہ قصور سی”(میرا کیا قصور تھا)

غریب کے جائیداد ھونا میرے دیس میں جرم ٹھہرا،
رمضان المبارک کے اس ماہ مقدس  میں میرے ڈڈیال میں ظلم و بربریت کی انتہا ھی ھو گئی
سوشل میڈیا پر ایک ضعیف العمر بوڑھی ماں جی ز

image

خمی حالت میں ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ زمین ہر پڑھیں تھیں ٹانگ کی ہڈی تک سامنے نظر آ رھی تھی چونکہ ان کا تعلق میرے آبائی گاوں کے ساتھ والے گاوں سے تھا جو میں نے وہاں ساتھ ھی لکھا ھوا پڑھا_ انکی حالت دیکھ کر ظالم سے ظالم انسان بھی کانوں کو ہاتھ لگا کر روئے_ میں ان ماں جی کی تصویر کو کافی دیر تک دیکھتا رھا کیونکہ یہ ماں مجھے کچھ جانی پہچانی لگ رھیں تھی پھر ایک دوست سے پتا کیا تو اسکے بتانے پر میرے ذہن میں دو ضعیف العمر عورتوں کا خیال آتے ھی میں سات سال  پیچھے ماضی میں چلا گیا اور خود کو ڈڈیال کچہری کے احاطہ میں دو ضعیف العمر عورتوں کر سامنے کھڑا کچھ باتیں کرتا پایا،
جی ھاں دوستو ان ماں جی سے میں ڈڈیال کچہری میں مل چکا ھوں اور اس وقت میں نے ان سے پوچھا تھا
مائی جی تساں نہ کہہ کیس ھے”(آپ کا کیا کیس ھے)
تو ماں جی نے مسکرا کر کہا “پترا کج نہ پوچھ باڑی ناں کیس ھے”( زمین کا کیس ھے)
میں نے پھر سوال کیا، “کتنا عرصہ ھوئی گیا نے”(کتنا عرصہ ھو چکا ھے)
اس سوال کا جواب دئے بغیر ماں جی نے مجھ سے سوال کیا ” پترا تواڑی کتنی عمر ھوئی گئی ایہہ” (بیٹا تمھاری عمر کتنی ھو گئی ھے)
میں نے جواب میں کہا 21،22 سال
تو ماں جی نے لمبا سانس بھرتے ھوئے کہا ” پتر اس ویلے تو پیدا وی نہ سیں ھویا جس ویلے ایہہ کیس شروع ھویا سی اور
مہاڑے نال ایہ مہاڑی تی ھے ان تے ایوی بڈھی ھوئی گئی ایہہ پر اساں کی انصاف نی لبہ”(بیٹا تم اسوقت پیدا بھی نہیں ھوئے تھے جب یہ کیس شروع ھوا تھا اور میرے ساتھ یخ میری بیٹی ھے یہ بھی اب بوڑھی ھو گئی ھے لیکن ھمیں انصاف نہیں ملا)
دوستو میرے دیس کا قانون اندھا ھی نہیں لولا ،لنگڑا اور بہرہ بھی ھے_  جہاں بھی ھمارے عدالتی نظام کی بات چلتی یا جہاں کسی کیس پہ بات ھوتی تو میرے ذہن میں ڈڈیال کچہری میں انصاف کی متلاشی یہ ضعیف العمر ماں کی باتیں ان کا چہرہ گردش کرنے لگ جاتا_ ابھی ان کے ایک کیس کا فیصلہ ھونے جا رھا تھا کہ انہیں جان سے مروانے کی کوشش کی گئی اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ اس حملے کہ پیچھے بھی وھی لوگ ھیں جنہوں نے ماں جی کی زمین پہ قبضہ کر رکھا ھے_ میں ماں جی کی سسکتی لرزتی آواز اپنے اردگرد ہر طرف سن رھا ھوں_ وہ بس اتنا ھی کہہ پا رھی ہیں ” مہاڑا قصور کہہ سی”
ماں جی آپ کا سب سے بڑا قصور یہ ھے کہ آپ اس معاشرے میں پیدا ھوئیں جہاں غریب ھونا جرم ھے، جہاں قانوں کا شکنجہ صرف غریب کو پکڑتا ھے، جہاں عدالتیں انصاف نہیں کرتیں بلکہ غریبوں کا ذلیل کرتی ھیں اور جہاں جج فیصلے نہیں ٹائم پاس کرنے کے لئے بیٹھتے ھیں_
ماں جی آپ کا اس سے بھی بڑا قصور آپ کے پاس زمین کا ھونا تھا وہ زمین جو آپکی مالکیت ھونے کے باوجود اسے بچانے کے لئے آپ نے اپنی جوانی سے بڑھاپا تک اور اس زمین کی قیمت سے زیادہ پیسہ خرچ کر دیا_ آپ نے اپنی ھی زمین کو بچانے کے لئے انصاف کا دروازہ تو کھٹکھٹایا لیکن آپ کو کیا پتا تھا قانون اندھا ھے بلکہ ھمارا قانون ھی نہیں قانون کے رکھوالے اور انصاف کے ٹھیکیدار بھی اندھے ھیں انہیں اگر کچھ نظر آتا ھے تو صرف پیسہ نظر آتا ھے اور پیسے کی چمک سے ھی ان کی آنکھیں کھلتی ھیں،
میرے نزدیک ان کیسوں میں ایک اور گندہ کردار ان وکلاء کا بھی تھا جو فیس تو ان ماں جی سے لیتے تھے لیکن دوسری پارٹی کے ساتھ ذاتی تعلقات پالتے ھوئے کیس کی پیروی میں بے ایمانی کرتے رھے_
ماں جی آپ کا ایک اور قصور بھی ھے، آپ اکیلی تن تنہا ھو، آپ کے پاس ووٹ بینک نہیں، آپ کسی بڑے خاندان برادری سے نہیں، آپ بیوہ ھو، ماں جی آپ کے اپنے بیٹے نہیں، جی ہاں ماں آپ اپنے بیٹے نہیں، اگر ھوتے تو میں دیکھتا، میں دیکھتا کوئی آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی کیسے دیکھتا ھے، ھاتھ لگانا تو دور کی بات میں دیکھتا کوئی آپ کی طرف انگلی بھی کیسے اٹھاتا ھے_
ماں جی خدا راہ ھمیں معاف کرنا ھم سوائے چند الفاظ ھمدردی کے کچھ نہیں کر سکتے، ماں ھم شرمندہ ھیں ھم سات سمندر پار بیٹھ کر آپ کے درد پہ سوائے چند آنسو بہانے کے کچھ نہیں کر سکتا،
ہاں اگر ھم کچھ کر سکتے ھیں تو وہ دعا ھے کہ اللہ آپ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور ان ظالموں کو ایسی سزا دے کر نشان عبرت بنا دے(آمین)
تحریر ؛ سلیم بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں